کاروار ، 20 / جولائی (ایس او نیوز) ضلع اتر کنڑا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری بھاری برسات کے قہر میں کوئی کمی نظر نہیں آئی ۔ کئی مقامات پر سیلابی کیفیت کے ساتھ زمین کھسکنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں ۔
اس وقت سیلاب زدہ علاقوں میں راحت کاری کا کام جاری ہے ۔ تا حال جملہ 18 ریلیف سینٹرس قائم کیے گئے ہیں جہاں 2055 افراد کو بسیرا فراہم کیا گیا ہے ۔ گوا نیشنل ہائی وے پر کرناٹکا سرحد سے تقریباً 12 کلو میٹر دوری پر دودھ ساگر فالس کے احاطے میں زمین کھسکنے کا معاملہ پیش آیا جس کی وجہ سے نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لئے بند ہوگیا ۔
کالی ندی پر باندھے گئے ڈیم کے آبی ذخیرے میں مقدار بہت زیادہ ہو جانے کے بعد اس کی آٹھ کریسٹ گیٹس کھول دی گئیں اور 66,000 کیوسیکس پانی باہر چھوڑا گیا ۔ اب اگر مزید پانی چھوڑا گیا تو کاروار تعلقہ میں کالی ندی کے کنارے بسنے والوں کے لئے سیلاب کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔
کمٹہ تعلقہ برگی پنچایت کے حدود میں نیشنل ہائی وے 66 پر پہاڑی کھسکنے کا واقعہ پیش آیا ۔ فور لین توسیعی منصوبے کے لئے جو پہاڑیاں کاٹی گئی ہیں ان علاقوں میں زمین اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں ۔ دیوگری میں زمین کھسکنے کے بعد پولیس نے نیشنل ہائی وے پر ٹریفک دی جس کی وجہ سے موٹر گاڑیوں کو متبادل راستہ استعمال کرنا پڑ رہا ہے ۔
سداپور سے ملی رپورٹ کے مطابق تعلقہ کے کئی مقامات پر سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے ۔ کونڈلگی میں اگناشی ندی اپنی سطح سے اوپر بہہ رہی ہے جس کی وجہ سے ندی کا پانی کھیت اور سپاری کے باغات ندیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ گاوں کو جوڑنے والی سڑک سیلاب کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔
اتر کنڑا ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے ڈسٹرکٹ ڈیسیاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی اور محکمہ ریوینیو اور محکمہ پنچایت راج کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ ضلع میں جتنے بھی اسکول، آنگن واڈی مراکز اور رہائشی ٹھکانے کسی بھی خطرے کی زد میں آنے کے امکانات ہیں ان کی مکمل تفصیل حاصل کریں اور دو دن کے اندر رپورٹ پیش کریں ۔ اور ایسے علاقوں میں تمام ضروری احتیاطی اقدامات کریں ۔